وہ محفل جو وقت سے ماورا تھی

 وہ محفل جو وقت سے ماورا تھی

محمدداؤدالرحمن علی

انسانی زندگی میں کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جو محض وقت کا حصہ نہیں رہتے بلکہ شخصیت کا جزو بن جاتے ہیں۔ زمانۂ طالبِ علمی بھی انہی ادوار میں سے ایک ہے—ایک ایسا عہد جس میں سادگی بھی حسن رکھتی ہے اور بےفکری بھی وقار۔ اس دور کی یادیں وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوتیں بلکہ مزید نکھر کر دل کے قریب آتی جاتی ہیں۔

یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب دوستی محض تعارف نہیں رہتی بلکہ ایک رشتہ بن جاتی ہے؛ جب محفل محض بیٹھک نہیں ہوتی بلکہ احساسات کا ایک مشترکہ آسمان بن جاتی ہے۔ انہی لمحوں میں ہنسی بےساختہ ہوتی ہے، گفتگو بےتکلف ہوتی ہے اور تعلقات بےغرض ہوتے ہیں۔

لیکن جیسے ہی انسان عملی زندگی کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے، ذمہ داریوں کا ہجوم، وقت کی قلت اور مصروفیات کی یلغار اسے اس سادگی سے دور لے جاتی ہے۔ وہی دوست جو روز کا معمول ہوتے تھے، اب یادوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہی محفلیں جو زندگی کی پہچان تھیں، اب ایک حسرت بن کر دل کے کسی کونے میں ٹھہر جاتی ہیں۔

ایسے میں اگر کبھی وقت مہربان ہو جائے اور بچھڑے ہوئے احباب ایک بار پھر یکجا ہو جائیں، تو وہ لمحہ محض ملاقات نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل تجربہ بن جاتا ہے—ایک ایسا تجربہ جو ماضی اور حال کو ایک ہی لمحے میں سمیٹ لیتا ہے۔

چند روز قبل ایسا ہی ایک موقع نصیب ہوا۔ حفظ کی کلاس کے ساتھی، جو کبھی روزمرہ کی زندگی کا حصہ تھے، ایک بار پھر ایک ہی جگہ جمع ہوئے—اور وہ بھی اپنی مادرِ علمی کی آغوش میں۔ اس اجتماع نے محض یادوں کو تازہ نہیں کیا بلکہ ایک بار پھر اس تعلق کو زندہ کر دیا جو وقت کی گرد تلے کہیں دب سا گیا تھا۔

ابتدا میں یہ نشست مختصر رکھی گئی تھی، مگر جب دلوں کی قربت نے اثر دکھایا تو وقت کی قید بے معنی ہو گئی۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر وہیں پرانے انداز، وہی بےساختہ قہقہے اور وہی بےتکلف جملے لوٹ آئے۔ یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے خود کو روک لیا ہو۔

تاہم اس محفل کی اصل خوبصورتی محض یادوں کے اعادے میں نہ تھی، بلکہ اس میں وہ روحانیت بھی شامل تھی جو اسے ایک عام نشست سے بلند کر کے ایک بامقصد اجتماع بنا رہی تھی۔ ذکرِ الٰہی، سنتِ نبوی ﷺ کا تذکرہ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات اور قرآنِ کریم کی آیات—یہ سب مل کر اس محفل کو ایک نورانی رنگ عطا کر رہے تھے۔

یہی وہ پہلو ہے جو کسی بھی دوستی کو محض دنیاوی تعلق سے اٹھا کر ایک بامقصد رفاقت میں بدل دیتا ہے۔

آج کے اس مصروف اور خود غرض دور میں، جہاں ہر شخص اپنے ہی دائرے میں محصور ہوتا جا رہا ہے، ایسی محفلیں کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ نہ صرف دل کو تازگی بخشتی ہیں بلکہ انسان کو اس کی اصل سے بھی جوڑتی ہیں۔

خاص طور پر ایسے احباب کا ساتھ، جو علم اور عمل دونوں میں پختگی رکھتے ہوں، زندگی کے لیے ایک سرمایہ ہوتا ہے۔ انہی کے ساتھ بیٹھ کر انسان نہ صرف ہنستا ہے بلکہ سیکھتا بھی ہے، اور یہی وہ امتزاج ہے جو زندگی کو بامعنی بناتا ہے۔

یہ محفل بھی اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال تھی۔ ہر شریکِ محفل نے اپنے انداز میں اس میں رنگ بھرا، اور خصوصاً وہ احباب جو اپنی ذاتی مصروفیات اور آرام کو قربان کر کے اس میں شریک ہوئے، ان کا جذبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی دوستی اب بھی زندہ ہے۔

ایسی محفلیں دراصل زندگی کے شور میں ایک خاموش سکون ہوتی ہیں—ایک ایسا سکون جو وقتی نہیں بلکہ دیرپا ہوتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زندگی محض ذمہ داریوں کا نام نہیں، بلکہ تعلقات کی حرارت اور محبت کی چاشنی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو قائم رکھے، ان محبتوں کو دوام بخشے، اور ہمیں ایسے ہی مخلص اور باصفا لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے—تاکہ ہم نہ صرف جئیں بلکہ خوبصورتی کے ساتھ جئیں۔


Post a Comment