اپریل فول: حقیقت، پس منظر اور شرعی حیثیت
محمدداؤدالرحمن علی
ہر سال یکم اپریل کو دنیا بھر میں "اپریل فول" منایا جاتا ہے، جسے بظاہر ہنسی مذاق اور تفریح کا دن سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے جھوٹ بول کر، غلط خبریں پھیلا کر یا دھوکہ دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اگر اس رسم کی حقیقت، اس کا پس منظر اور اس کے شرعی و اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو یہ معاملہ نہایت سنجیدہ اور قابلِ غور بن جاتا ہے۔
اپریل فول کا پس منظر
اپریل فول کی اصل تاریخ کےبارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں،تاہم ایک مشہور قول یہ ہے کہ یورپ میں جب پرانے کیلنڈر(جولین کیلنڈر) سے نئے کیلنڈر (گریگورین کیلنڈر) کی طرف تبدیلی کی گئی تو کچھ لوگ اس تبدیلی سے ناواقف رہے اور وہ یکم اپریل کو ہی نیا سال مناتے رہے۔ چنانچہ دوسرے لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور انہیں "اپریل فول" (یعنی اپریل کا بے وقوف) کہتے۔
ایک اور قول کے مطابق یہ رسم یورپ کے قدیم تہواروں سے نکلی، جہاں جھوٹ اور فریب کے ذریعے لوگوں کو ہنسانا ایک کھیل سمجھا جاتا تھا۔
بعض اہلِ علم نے اس کو مسلمانوں کے خلاف اندلس (اسپین) میں ہونے والے مظالم سے بھی جوڑا ہے، اگرچہ یہ روایت تاریخی طور پر مضبوط نہیں، لیکن اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ یہ رسم اسلامی معاشرے سے نہیں بلکہ غیر مسلم تہذیب سے آئی ہے۔
لہٰذا یہ ایک غیر اسلامی اور اجنبی رسم ہے جس کی کوئی بنیاد اسلامی تعلیمات میں نہیں ملتی۔
اپریل فول اور جھوٹ کا گناہ
اس رسم کا بنیادی عنصر جھوٹ ہے، جبکہ اسلام میں جھوٹ کو نہایت سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف انسان کی شخصیت کو تباہ کرتا ہے بلکہ معاشرے میں بداعتمادی کو فروغ دیتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (آل عمران: 61)
ترجمہ: "پس اللہ تعالیٰ کی لعنت جھوٹوں پر ہو۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہوجاتا ہے۔"(ترمذی، 2/19)
ایک اور حدیث میں واضح فرمایا: "میں جنت کے درمیان ایک گھر کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے، چاہے مذاق میں ہی کیوں نہ ہو۔"(الترغیب والترہیب، 3/589)
اور خاص طور پر فرمایا: "ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے۔"(ترمذی، 2/55؛ ابوداؤد، 2/681)
یہ تمام تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اپریل فول کے نام پر جھوٹ بولنا کسی صورت جائز نہیں۔
دھوکہ دہی: ایک قبیح عمل
اپریل فول میں صرف جھوٹ ہی نہیں بلکہ دھوکہ دہی بھی شامل ہوتی ہے، جو اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو ہمیں دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔"(مسلم، 1/70)
ایک اور حدیث میں ارشاد ہے: "مومن ایک دوسرے کے خیرخواہ ہوتے ہیں... جبکہ فاجر ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں۔"(الترغیب والترہیب، 2/575)
یہ واضح کرتا ہے کہ دھوکہ دینا مومن کی شان نہیں بلکہ بدکردار لوگوں کا طریقہ ہے۔
دوسروں کو تکلیف دینا
اپریل فول کے مذاق میں اکثر لوگوں کو ذہنی اذیت، شرمندگی یا خوف میں مبتلا کیا جاتا ہے، جبکہ اسلام اس سے سختی سے روکتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(بخاری، 1/6؛ مسلم، 1/48)
ایک اور حدیث میں فرمایا: "مومن وہ ہے جس سے تمام لوگ اپنے جان و مال کے بارے میں محفوظ ہوں۔"(ترمذی، 2/90)
اپریل فول ایک ایسی رسم ہے جس کی بنیاد جھوٹ، دھوکہ دہی اور دوسروں کو اذیت دینے پر قائم ہے۔ نہ اس کا تعلق اسلامی تعلیمات سے ہے اور نہ ہی یہ کسی مثبت اخلاقی قدر کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ ایسی رسم کا حصہ بنے یا اسے فروغ دے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم سچائی، امانت اور خیرخواہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر اس عمل سے بچیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب بنے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین
Post a Comment
Post a Comment