سکونِ قلب: سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں




سکونِ قلب: سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

سکونِ قلب کی انسانی خواہش

 


دل کا سکون کون نہیں چاہتا؟ ہر دور میں ہر انسان کی یہ خواہش رہی ہے کہ اسے قلبی اطمینان، ذہنی آسودگی اور زندگی کا حقیقی چین نصیب ہو۔ اس مقصد کے لیے انسان نے مختلف راستے اختیار کیے۔ کسی نے رسائل و کتب کے مطالعے میں سکون تلاش کیا، کسی نے سیر و تفریح کے مقامات کا رخ کیا، کسی نے باغات کی سرسبزی، پھولوں کے رنگ و بو اور فطرت کے حسین مناظر میں دل بہلانے کی کوشش کی، جب کہ کسی نے کھیل کود اور جدید تفریحی ذرائع کو اپنی خوشی کا وسیلہ بنایا۔

بلاشبہ یہ تمام چیزیں اپنی جگہ انسانی زندگی کا حصہ ہیں اور جائز حدود میں ان سے لطف اندوز ہونا بھی درست ہے، لیکن ان سے حاصل ہونے والی مسرت اکثر عارضی ہوتی ہے۔ انسان کبھی اپنی آسائشوں میں اضافہ کرکے، کبھی مال و دولت جمع کرکے اور کبھی تفریحات کے نئے ذرائع اختیار کرکے سکون حاصل کرنا چاہتا ہے، مگر اس کی قلبی تشنگی پھر بھی باقی رہتی ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان نے سکون کی تلاش میں بسا اوقات اس سرچشمے کو نظرانداز کر دیا ہے جہاں حقیقی اطمینان موجود ہے۔ خالقِ کائنات، جس نے انسانی جسم کا حیرت انگیز نظام تخلیق فرمایا، اسی نے اپنے بندوں کو قلبی سکون کا راستہ بھی دکھایا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔

’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘(  سورۃ الرعد: 28)

اطمینانِ قلب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، جسے دنیا کی دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔ انسان کے پاس مال و دولت، آسائشیں اور سہولتیں تو ہو سکتی ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ اس کا دل بھی مطمئن ہو۔ حقیقی سکون اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق، اس کی یاد اور اس کے احکامات کی پیروی میں پوشیدہ ہے۔

جدید زندگی اور بے سکونی کے اسباب

آج کا دور نت نئی ایجادات اور حیرت انگیز سہولتوں کا دور ہے۔ ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے بے شمار معاملات آسان بنا دیے ہیں۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں، معلومات تک رسائی سہل ہو گئی ہے اور زندگی کے بہت سے کام چند لمحوں میں انجام پانے لگے ہیں۔ اس کے باوجود انسان پہلے سے زیادہ مصروف، پریشان اور ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

ہر شخص آگے بڑھنے، زیادہ کمانے اور دوسروں سے بہتر زندگی گزارنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ حتیٰ کہ جس وقت کو آرام، عبادت اور اہلِ خانہ کے ساتھ گزارنے کے لیے مخصوص ہونا چاہیے، وہ بھی معاشی جدوجہد اور غیر ضروری مصروفیات کی نذر ہو جاتا ہے۔

اس بے سکونی کا ایک اہم سبب دوسروں سے غیر ضروری تقابل بھی ہے۔ انسان اپنی زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے دوسروں کی آسائشوں کو دیکھ کر اپنی محرومیوں کا حساب لگانے لگتا ہے۔ کسی کے پاس بڑا گھر ہے، کسی کے پاس زیادہ دولت، کسی کا کاروبار وسیع ہے اور کسی کا طرزِ زندگی زیادہ پُرآسائش۔ یہ سب دیکھ کر انسان کے اندر مزید حاصل کرنے کی خواہش شدت اختیار کر لیتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی موجودہ نعمتوں کی قدر کرنا بھی بھول جاتا ہے۔

قرآنِ کریم انسان کو زندگی کی اصل کامیابی کا راستہ بتاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔

ترجمہ: ’’جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بہترین اجر بھی دیں گے۔‘‘( سورۃ النحل: 97)

اس آیتِ مبارکہ میں ایمان اور عملِ صالح کو پاکیزہ زندگی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی کامیابی محض مادی ترقی کا نام نہیں، بلکہ ایمان، نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے۔

دنیا آزمائشوں کا گھر ہے۔ کسی کو معاشی پریشانی لاحق ہے، کوئی بیماری سے نبردآزما ہے، کسی کے گھریلو حالات ناسازگار ہیں، کسی کو اولاد کی نعمت نصیب نہیں ہوئی اور کوئی نافرمان اولاد کی وجہ سے پریشان ہے۔ کہیں حادثات خوش حال خاندانوں کو اجاڑ دیتے ہیں تو کہیں قدرتی آفات لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی ختم کر دیتی ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ ہر پریشانی انسان کے اپنے اعمال کی سزا ہو۔ قرآن و سنت کی روشنی میں آزمائش کبھی گناہوں کا نتیجہ، کبھی درجات کی بلندی کا ذریعہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا سبب بھی ہوتی ہے۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی اور معاشرتی زندگی بہتر بنانے کی کوشش ضرور کرے، لیکن اس جدوجہد میں اپنے ایمان، صحت، اخلاق اور قلبی سکون کو قربان نہ کرے۔

دل کی اہمیت اور باطنی امراض

رسول اکرم ﷺ نے انسانی جسم میں دل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ۔

ترجمہ: ’’خبردار! انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اور جب وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الإیمان، حدیث: 52؛ صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، حدیث: 1599)

انسانی جسم میں دل کی اہمیت مسلم ہے۔ طبی اعتبار سے یہ ایک عضلاتی عضو ہے جو خون کو پورے جسم میں گردش کرنے کے لیے پمپ کرتا ہے۔ اس کی درست کارکردگی انسانی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

جس طرح جسمانی دل مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے، اسی طرح روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بھی دل مختلف امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حسد، بغض، کینہ، عداوت، دشمنی اور تکبر ایسی باطنی بیماریاں ہیں جو انسان کے کردار، تعلقات اور روحانی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔

انسان بسا اوقات دوسروں کی خوش حالی دیکھ کر دل میں جلن محسوس کرتا ہے، کسی کی کامیابی برداشت نہیں کر پاتا اور یہ چاہتا ہے کہ جو نعمت دوسرے کو حاصل ہے وہ اس سے چھن جائے۔ یہی حسد ہے، جو انسان کے اپنے قلبی سکون کو بھی تباہ کرتا ہے اور معاشرتی تعلقات میں بھی زہر گھول دیتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا۔

ترجمہ: ’’بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہو، جاسوسی نہ کرو، ایک دوسرے سے ناجائز مقابلہ نہ کرو، حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو اور اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، حدیث: 2563)

حسد کے بارے میں ایک دوسری روایت بھی منقول ہے:

إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ۔

ترجمہ: ’’حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، حدیث: 4903)

دل کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر سے حسد، کینہ اور تکبر جیسی برائیوں کو نکالنے کی کوشش کرے۔ دوسروں کی خوش حالی پر خوش ہونا، ان کے لیے خیر چاہنا، اپنی کوتاہیوں کا محاسبہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا دل کو پاکیزہ بنانے کے اہم ذرائع ہیں۔

ذکرِ الٰہی، نماز اور صالحین کی صحبت

سکونِ قلب کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تعلق محض زبان سے ذکر کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں نماز، تلاوتِ قرآن، دعا، استغفار، اطاعتِ الٰہی اور احکامِ شریعت کی پابندی بھی شامل ہے۔

رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہتے تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى۔

ترجمہ: ’’نبی کریم ﷺ کو جب کوئی اہم یا پریشان کن معاملہ پیش آتا تو آپ نماز ادا فرماتے۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب التطوع، حدیث: 1319)

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ۔

ترجمہ: ’’اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو۔‘‘(سورۃ البقرۃ: 45)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا:

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا۔

ترجمہ: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجیے اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہیے۔‘‘( سورۃ طٰہٰ: 132)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ نماز صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ بندے کے اپنے رب سے تعلق کی تجدید کا ذریعہ بھی ہے۔ انسان جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو دنیاوی مصروفیات سے توجہ ہٹا کر اپنے خالق کے سامنے حاضر ہوتا ہے، اس سے مدد مانگتا ہے اور اپنی پریشانیوں کو اس کے حضور پیش کرتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ کی زندگی میں نمازِ کسوف، نمازِ خسوف اور نمازِ استسقاء کی ادائیگی بھی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے امت کو مختلف حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دی۔

اس کے ساتھ نیک اور صالح لوگوں کی صحبت بھی انسان کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسی مجالس جہاں قرآن و سنت کی تعلیم، اخلاق کی تربیت اور تزکیۂ نفس کا اہتمام ہو، انسان کے اندر نیکی کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مستند اہلِ علم اور شریعت و سنت کے پابند اہلِ اصلاح سے رہنمائی حاصل کرنا مفید ہے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سکونِ قلب کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی زندگی سے تمام مشکلات ختم ہو جائیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں بھی آزمائشوں سے گزریں، لیکن اللہ تعالیٰ سے ان کے مضبوط تعلق نے انہیں صبر، توکل اور استقامت عطا فرمائی۔ مومن کا حقیقی اطمینان مشکلات سے مکمل آزادی میں نہیں، بلکہ مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ پر اعتماد رکھنے میں ہے۔

قناعت، توکل اور شکر گزاری

انسان کی بے سکونی کا ایک بڑا سبب حرص و لالچ ہے۔ وہ جتنا کچھ حاصل کر لیتا ہے، اس سے زیادہ کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ اس کی نگاہ ہمیشہ ان چیزوں پر رہتی ہے جو ابھی اسے حاصل نہیں ہوئیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ موجودہ نعمتوں پر غور کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔

رسول اکرم ﷺ نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:

لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللّٰهُ عَلَى مَنْ تَابَ۔

ترجمہ: ’’اگر ابنِ آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی خواہش کرے گا، اور ابنِ آدم کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے جو توبہ کرے۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6436؛ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1049)

یہ حدیث انسان کی فطری حرص کو واضح کرتی ہے۔ مال و دولت کی خواہش جب اعتدال کی حدود سے نکل جاتی ہے تو انسان کے لیے حاصل شدہ نعمتیں بھی ناکافی محسوس ہونے لگتی ہیں۔

حقیقی مال داری کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ۔

ترجمہ: ’’مال داری سامانِ دنیا کی کثرت کا نام نہیں، بلکہ حقیقی مال داری دل کی بے نیازی ہے۔‘‘( صحیح البخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6446؛ صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 1051)

قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ترقی کی کوشش چھوڑ دے یا اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے محنت نہ کرے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جائز ذرائع سے ترقی کی جائے، حلال رزق حاصل کیا جائے اور اپنی خواہشات کو اس حد تک بے قابو نہ ہونے دیا جائے کہ انسان حرام اور ناجائز راستے اختیار کرنے پر آمادہ ہو جائے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے:

مَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ جَعَلَ اللّٰهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ جَعَلَ اللّٰهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَفَرَّقَ عَلَيْهِ شَمْلَهُ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ۔

ترجمہ: ’’جس شخص کا مقصد آخرت ہو، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں بے نیازی پیدا فرما دیتا ہے، اس کے معاملات کو یکجا کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس آتی ہے، اگرچہ وہ اسے پسند نہ کرے۔ اور جس شخص کا مقصد دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی نگاہوں کے سامنے کر دیتا ہے، اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا میں سے اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، حدیث: 2465)

انسان کو چاہیے کہ دنیاوی جدوجہد کے ساتھ آخرت کی تیاری کو بھی اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ حلال رزق حاصل کرے، اپنی ضروریات پوری کرے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنے کی کوشش کرے۔

مومن کی زندگی میں شکر اور صبر کی بھی غیر معمولی اہمیت ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ۔

ترجمہ: ’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اسے خوش حالی نصیب ہو تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔‘‘( صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، حدیث: 2999)

یہ حدیثِ مبارکہ مومن کی زندگی کا ایک خوب صورت نقشہ پیش کرتی ہے۔ وہ خوشی میں اللہ تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتا اور غم میں اس کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اس کا یقین ہوتا ہے کہ خوش حالی ہو یا تنگ دستی، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔

ایثار، خدمتِ خلق اور حقوق العباد

سیرتِ رسول اکرم ﷺ کا ایک نہایت روشن پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انسان کو صرف اپنی ذات کے لیے جینے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے، ان کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کی ترغیب دی۔

آپ ﷺ نے ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں انسان صرف اپنی بھوک مٹانے میں خوشی محسوس نہیں کرتا تھا، بلکہ کسی دوسرے بھوکے کو کھانا کھلانے، کسی ضرورت مند کی مدد کرنے اور کسی پریشان حال کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کو بھی سعادت سمجھتا تھا۔

قرآنِ کریم نے انصارِ مدینہ کے ایثار کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔

ترجمہ: ’’اور وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود انہیں سخت ضرورت ہو۔‘‘(سورۃ الحشر: 9)

یہ آیتِ مبارکہ ایثار کے اعلیٰ مقام کو بیان کرتی ہے، جہاں انسان اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کی ضرورت کو اہمیت دیتا ہے۔ یہی جذبہ معاشرے میں محبت، اعتماد اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔

ترجمہ: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الإیمان، حدیث: 10؛ صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث: 40)

پڑوسیوں کے حقوق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ۔

ترجمہ: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اپنے مہمان کی عزت کرے اور اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6018)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی شخصیت کا اہم وصف یہ ہے کہ دوسرے لوگ اس کی زبان اور اس کے عمل سے محفوظ رہیں۔ کسی کی دل آزاری نہ کرنا، اس کے حقوق ادا کرنا اور ضرورت کے وقت اس کا سہارا بننا حسنِ اخلاق کی بنیادی علامتیں ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ اپنے والدین، اہلِ خانہ، رشتے داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھیں۔ والدین کے ساتھ احترام و محبت، اہلِ خانہ کے ساتھ نرمی، بچوں کی اچھی تربیت اور رشتے داروں کے ساتھ حسنِ تعلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

اگر ہم کسی کو خوشی نہیں دے سکتے تو کم از کم کسی کی دل آزاری کا سبب بھی نہ بنیں۔ ہمارا طرزِ عمل ایسا ہونا چاہیے کہ ہمارے وجود سے دوسروں کو امن، محبت اور آسانی محسوس ہو۔

پاکیزہ کردار اور حلال رزق

دل کا اطمینان انسان کے معاشی معاملات اور اخلاقی کردار سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انسان جب حلال ذرائع سے رزق حاصل کرتا ہے، معاملات میں دیانت داری اختیار کرتا ہے اور جھوٹ، دھوکے اور خیانت سے بچتا ہے تو اس کا ضمیر مطمئن رہتا ہے۔

اس کے برعکس ناجائز منافع خوری، دوسروں کے حقوق پر دست درازی، وعدہ خلافی اور فریب ایسے اعمال ہیں جو انسان کے اخلاق کو کمزور کرتے ہیں اور معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتے ہیں۔

آج ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں سچائی، دیانت، وعدے کی پاس داری اور اعتدال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانے، کھانے پینے میں اعتدال اختیار کرنے، گفتگو میں میانہ روی اپنانے اور آرام و عبادت کے لیے مناسب وقت مقرر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اچھی زندگی صرف زیادہ کمانے یا زیادہ خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ متوازن طرزِ زندگی، پاکیزہ کردار، حلال رزق اور مطمئن ضمیر بھی اس کے بنیادی اجزا ہیں۔

سکونِ قلب کا نبوی راستہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ سکونِ قلب کوئی ایسی چیز نہیں جسے دنیا کے بازاروں میں تلاش کیا جا سکے یا دولت کے انبار لگا کر حاصل کیا جائے۔ یہ ایک ایسی روحانی اور قلبی کیفیت ہے جو اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق، ذکر و عبادت، ایمان و عملِ صالح، قناعت، توکل، صبر، شکر اور پاکیزہ اخلاق سے پروان چڑھتی ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے اپنی پوری زندگی کے ذریعے انسانیت کو سکون و اطمینان کا ایک متوازن راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ مشکلات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نماز کا اہتمام کریں، حلال رزق اختیار کریں، دنیا کی محبت کو دل پر غالب نہ آنے دیں، دوسروں کی خوش حالی پر حسد کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں اور اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے نفع بخش بنائیں۔

ہمیں ترقی ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس کی قیمت اپنا ایمان، اپنا اخلاق اور اپنا قلبی سکون نہیں ہونی چاہیے۔ دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا بھی ضروری ہے، لیکن اپنے خالق کو فراموش کر دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔

آئیے! ہم اپنی زندگیوں کو سیرتِ رسول اکرم ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں، اپنے دلوں کو حسد، کینہ، بغض اور تکبر سے پاک رکھیں، اپنے رب کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور اپنے قول و عمل سے دوسروں کے لیے خیر و آسانی کا ذریعہ بنیں۔

کیونکہ حقیقی سکون اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ مضبوط ہو، اس کا ضمیر پاکیزہ ہو اور اس کے وجود سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو خیر پہنچے۔

مآخذ و مراجع

القرآن الکریم۔

البخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح البخاری

مسلم بن الحجاج، الصحیح مسلم

أبو داؤد، سلیمان بن اشعث السجستانی، السنن ابی داؤد

الترمذی، محمد بن عیسیٰ، الجامع الترمذی

الألبانی، محمد ناصر الدین، سلسلة الأحادیث الصحیحۃ والضعیفۃ۔

الأرناؤوط، شعیب، تحقیق و تخریج أحادیث سنن ابی داؤد۔


Post a Comment