تعلیمِ قرآن: فضائل، مقاصد، حقوق اور آداب

 



تعلیمِ قرآن: فضائل، مقاصد، حقوق اور آداب

✍️ محمدداؤدالرحمن علی

اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیاد علم، معرفت، اخلاق اور عملِ صالح پر استوار ہے، اور ان تمام اصولوں کا سرچشمہ قرآنِ حکیم ہے۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتابِ ہدایت ہے جسے اس نے جن و انس کی رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمایا۔ یہ کتاب انسان کو اس کے خالق سے آشنا کرتی، زندگی کے مقاصد سے روشناس کراتی، اخلاق و کردار کو سنوارتی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتی ہے۔

قرآنِ کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ یہ فکر و نظر کی اصلاح، دلوں کی تطہیر، کردار کی تعمیر اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا مکمل دستور ہے۔ اس کی تعلیم حاصل کرنا، دوسروں کو سکھانا، اس کے معانی میں غور و فکر کرنا اور اس کی ہدایات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ قرآن سے تعلق جتنا مضبوط ہوگا، انسان کی فکری و اخلاقی زندگی اتنی ہی روشن اور اس کا کردار اتنا ہی پاکیزہ ہوگا۔

اسی حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعلیمِ قرآن کے فضائل، مقاصد، حقوق، آداب اور عملی تقاضوں کا مطالعہ ضروری ہے، تاکہ قرآنِ کریم کے ساتھ ہمارا تعلق محض رسمی نہ رہے، بلکہ ہماری زندگی کا حقیقی رہنما بن جائے۔

قرآنِ کریم کی عظمت اور اس کا مقام

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو ہدایت، رحمت اور علم کی کتاب قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

الرٰ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِينٍ

 ’’یہ کتاب اور روشن قرآن کی آیات ہیں۔‘‘(سورۃ الحجر: 1)

قرآنِ کریم کو قرآن بھی کہا گیا اور کتاب بھی۔ لفظِ قرآن اس کی تلاوت اور قراءت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جب کہ کتاب اس کے مکتوب اور محفوظ ہونے کے مفہوم کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ دونوں نام اس کتاب کی عظمت اور اس کے امتیازی مقام کو ظاہر کرتے ہیں۔

دنیا کی دوسری کتابوں کے مطالعے میں انسان ایک وقت کے بعد اکتاہٹ محسوس کرسکتا ہے، لیکن قرآنِ کریم کی تلاوت اور تدبر کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کی آیات میں غور کرنے سے انسان پر نئے معانی، حکمتیں اور نصیحتیں منکشف ہوتی ہیں۔ اس کی ہدایات ہر دور میں انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم بار بار پڑھنے کے باوجود اپنی تاثیر، معنوی گہرائی اور روحانی برکات کے اعتبار سے تازہ محسوس ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کو محفوظ کتاب قرار دیتے ہوئے فرمایا:

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ۝ فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ

’’بے شک یہ ایک نہایت عزت والا قرآن ہے، جو ایک محفوظ کتاب میں ہے۔‘‘(سورۃ الواقعہ: 77-78)

قرآنِ کریم کی عظمت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اس کی تلاوت کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں، اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کے احکام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں۔

تعلیمِ قرآن کی اہمیت اور فضیلت

قرآنِ کریم کی تعلیم و تعلم اسلام کے بنیادی دینی اعمال میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والے کو امت کے بہترین افراد میں شمار فرمایا ہے۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ

’’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، حدیث: 5027)

یہ حدیث تعلیمِ قرآن کی فضیلت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں قرآن سیکھنے والے اور سکھانے والے دونوں کے لیے خیر و فضیلت کی بشارت ہے۔ قرآن کی تعلیم محض حروف کی ادائیگی اور الفاظ کی شناخت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں درست قراءت، معانی کا فہم، حکمت و ہدایت سے واقفیت اور تعلیماتِ قرآنی پر عمل کی تربیت بھی شامل ہے۔

ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دینی ضروریات کے مطابق قرآنِ کریم پڑھنا سیکھے اور جہاں تک ممکن ہو، اس کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح والدین، اساتذہ اور اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو قرآنِ کریم کی تعلیم سے آراستہ کریں، تاکہ ان کے دلوں میں ایمان کی پختگی، اخلاق کی پاکیزگی اور دین سے محبت پیدا ہو۔

تعلیمِ قرآن ایک ایسا مبارک عمل ہے جس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص قرآن سیکھ کر دوسروں کو سکھاتا ہے تو وہ علم، ہدایت اور نیکی کے تسلسل کا ذریعہ بنتا ہے۔

قرآنِ کریم کی تلاوت کا اجر و ثواب

قرآنِ کریم کی تلاوت عظیم عبادت ہے۔ اس کے ہر حرف پر اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللّٰهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا

’’جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھتا ہے، اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی دس گنا کردی جاتی ہے۔‘‘

پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ’’الم‘‘ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔(جامع الترمذی، کتاب فضائل القرآن، حدیث: 2910)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں کس قدر عظیم ہے۔ انسان اپنی مصروفیات کے باوجود اگر روزانہ کچھ وقت تلاوت کے لیے مخصوص کرلے تو وہ مسلسل نیکیوں کا مستحق بن سکتا ہے۔

قرآنِ کریم کے حروفِ مقطعات، مثلاً ’’الم‘‘، کے حقیقی مفہوم کے بارے میں اہلِ علم کے مختلف اقوال ہیں۔ ان کے قطعی معنی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، اور بعض اہلِ علم نے ان کے معانی کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا ہے۔ تاہم ان حروف کی تلاوت بھی قرآنِ کریم کی تلاوت ہی میں شامل ہے اور اس پر اجر و ثواب کی بشارت موجود ہے۔

اس حقیقت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم پڑھنے کا فائدہ صرف اس وقت حاصل نہیں ہوتا جب انسان ہر آیت کا ترجمہ سمجھ رہا ہو۔ درست تلاوت اپنی جگہ ایک مستقل عبادت ہے، البتہ اس کے ساتھ معانی کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا اس عبادت کی تکمیل اور اس کے عملی مقاصد کے حصول کے لیے نہایت اہم ہے۔

قرآنِ کریم کی تلاوت میں دشواری محسوس کرنے والے کو بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ

’’اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس میں اٹکتا ہے اور اسے پڑھنا اس کے لیے دشوار ہوتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، حدیث: 798)

یہ بشارت ہر اس شخص کے لیے حوصلے کا باعث ہے جو قرآن پڑھنے کی کوشش کرتا ہے، خواہ ابتدا میں اسے دشواری ہی کیوں نہ پیش آئے۔

قرآنِ کریم اور درجاتِ آخرت

قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق قیامت کے دن بھی انسان کے لیے باعثِ فضیلت ہوگا۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا

’’قرآن والے سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور درجات میں بلند ہوتے جاؤ، اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسے تم دنیا میں پڑھا کرتے تھے؛ کیونکہ تمہارا مقام وہاں ہوگا جہاں تم آخری آیت پڑھو گے۔‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الوتر، حدیث: 1464؛ جامع الترمذی، حدیث: 2914)

اس حدیث میں قرآن سے وابستگی کی عظمت اور آخرت میں اس کے اجر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ قرآنِ کریم سے تعلق محض دنیاوی فائدے یا وقتی جذبات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی نسبت ہے جس کے ثمرات آخرت تک پہنچتے ہیں۔

تاہم قرآن سے حقیقی وابستگی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ دے۔ قرآن پڑھنا، اسے یاد کرنا، اس پر غور کرنا اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا ایک دوسرے سے مربوط اعمال ہیں۔

قرآنِ کریم سے غفلت اور قلبی ویرانی

جس طرح قرآنِ کریم کی تلاوت دل کو نور اور زندگی کو ہدایت عطا کرتی ہے، اسی طرح اس سے مسلسل غفلت انسان کی روحانی زندگی کو کمزور کرسکتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ

’’وہ شخص جس کے اندر قرآن کا کچھ حصہ بھی نہیں، اس گھر کی مانند ہے جو ویران ہو۔‘‘(جامع الترمذی، کتاب فضائل القرآن، حدیث: 2913)

اس حدیث میں دل اور قرآن کے تعلق کو ایک مؤثر مثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ جس طرح ایک آباد گھر انسان کو سکون، تحفظ اور آسودگی فراہم کرتا ہے، اسی طرح قرآن سے آباد دل ایمان، معرفت اور روحانی سکون کا مرکز بنتا ہے۔

مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا تعلق منقطع نہ ہونے دے۔ روزانہ تھوڑی سی تلاوت بھی مسلسل تعلق قائم رکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن پڑھنے میں کمزوری محسوس کرتا ہے تو اسے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور اگر مصروفیات کی وجہ سے معمول متاثر ہو تو اپنے اوقات کی تنظیم کرکے دوبارہ اس مبارک عمل کو جاری کرنا چاہیے۔

قرآنِ کریم کی تعلیم کے بنیادی مقاصد

اسلام میں علم و تعلیم کی اہمیت محض معلومات جمع کرنے یا دنیاوی مناصب حاصل کرنے تک محدود نہیں۔ علم کا اصل مقصد انسان کو حقیقت سے آشنا کرنا، اس کے اندر شعور پیدا کرنا، اخلاق کو سنوارنا اور اسے اپنے خالق کی معرفت عطا کرنا ہے۔ قرآنِ کریم کی تعلیم بھی انہی مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

’’اور ہم ان کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے جسے ہم نے علم کی بنیاد پر تفصیل سے بیان کیا، وہ ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘(سورۃ الاعراف: 52)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآنِ کریم علم، ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔ اس کی تعلیم انسان کو محض معلومات فراہم نہیں کرتی، بلکہ اسے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے، زندگی کے مقصد کو پہچاننے اور درست طرزِ عمل اختیار کرنے کی رہنمائی دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان اور اہلِ علم کے درجات کی بلندی کے بارے میں فرماتا ہے:

يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ

’’اللہ تم میں سے ایمان والوں اور ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا جنہیں علم عطا کیا گیا ہے۔‘‘(سورۃ المجادلۃ: 11)

ایک اور مقام پر ارشاد ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

’’کہہ دیجیے، کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘(سورۃ الزمر: 9)

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ علم انسان کی قدر و منزلت میں اضافے کا ذریعہ ہے، لیکن علم کی حقیقی فضیلت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب وہ انسان کو حق شناسی، ذمہ داری اور نیک عمل کی طرف لے جائے۔

قرآنِ کریم علم کو اخلاقی ذمہ داری سے بھی وابستہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ

’’اللہ کے بندوں میں سے اس سے حقیقی خشیت رکھنے والے اہلِ علم ہیں۔‘‘(سورۃ فاطر: 28)

یہاں علم اور خشیتِ الٰہی کے درمیان تعلق واضح کیا گیا ہے۔ حقیقی علم انسان کو تکبر میں مبتلا کرنے کے بجائے اس کے اندر عاجزی، جواب دہی کا احساس اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کا شعور پیدا کرتا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ

’’وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتے ہیں، انہیں پاکیزہ بناتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘(سورۃ الجمعۃ: 2)

اس آیت میں تلاوت، تزکیۂ نفس اور تعلیمِ کتاب و حکمت کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کا مقصد صرف پڑھانا نہیں، بلکہ انسان کی فکر، روح اور کردار کی اصلاح بھی ہے۔

لہٰذا تعلیمِ قرآن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو پہچانے، اپنی حقیقت اور ذمہ داریوں کو سمجھے، اپنے اخلاق سنوارے اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔

تعلیمِ قرآن اور عمل کا باہمی تعلق

قرآنِ کریم کی تعلیم کا ایک اہم تقاضا اس کے احکام پر عمل کرنا ہے۔ محض تلاوت یا حفظ پر اکتفا کرکے عملی زندگی میں قرآنی تعلیمات سے بے اعتنائی برتنا قرآن کے جامع پیغام کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

اللہ تعالیٰ نیک اعمال اور ایمان کے باہمی تعلق کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ

’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، وہی بہترین مخلوق ہیں۔‘‘(سورۃ البینہ: 7)

یہ آیت ایمان کے ساتھ عملِ صالح کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو سچائی، امانت داری، عدل، صبر، احسان، عفو و درگزر اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر قرآن پڑھنے والا ان صفات کو اپنی زندگی میں جگہ دیتا ہے تو اس کی تلاوت اس کے کردار میں عملی طور پر ظاہر ہونے لگتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انسانوں کی رہنمائی کی فضیلت بھی بیان فرمائی۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

فَوَاللّٰهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللّٰهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ

’’اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘(صحیح البخاری، کتاب فضائل أصحاب النبی، حدیث: 4210؛ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث: 2406)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی ہدایت اور اصلاح کا ذریعہ بننا بہت بڑی سعادت ہے۔ قرآن سیکھنے اور سکھانے والے کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے علم کو حکمت، خیرخواہی اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دوسروں تک پہنچائے۔

قرآن کی تعلیم کا دائرہ صرف ذاتی اصلاح تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے معاشرے میں خیر کو فروغ دینا، جہالت کو دور کرنا، باہمی حقوق کی ادائیگی کی ترغیب دینا اور انسانوں کو بھلائی کے راستے پر گامزن کرنا بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔

تلاوتِ قرآن اور شفاعت

قرآنِ کریم کے ساتھ تعلق کا ایک اہم پہلو آخرت میں اس کی شفاعت ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ

’’قرآن پڑھا کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے اور اس سے وابستہ رہنے والوں کے لیے شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، حدیث: 804)

اس حدیث میں قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کے ساتھ وابستگی کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ قرآن سے تعلق رکھنے والے انسان کے لیے یہ عظیم بشارت ہے کہ وہ اس کتاب کو اپنی زندگی میں جگہ دے جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔

اسی طرح روزے کی فضیلت اور قرآن کی شفاعت کا ذکر ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں شفاعت کریں گے۔ روزہ عرض کرے گا کہ اے میرے رب! میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما؛ اور قرآن عرض کرے گا کہ میں نے اسے رات کے وقت نیند سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ پھر دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(مسند احمد؛ شعب الایمان للبیہقی)

اس روایت میں روزے اور قرآن کے درمیان ایک خوب صورت معنوی ربط قائم کیا گیا ہے۔ روزہ انسان کو خواہشات پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے، جب کہ قرآن اس کی فکر، عقیدے اور کردار کی اصلاح کرتا ہے۔ دونوں عبادات انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنے اور اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کا ذریعہ ہیں۔

قرآن کی شفاعت کی امید رکھنے والے شخص کو چاہیے کہ وہ تلاوت کے ساتھ اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرے، کیونکہ قرآن کا پیغام انسان کی پوری زندگی کی رہنمائی کے لیے ہے۔

حقوق القرآن

قرآنِ کریم کے حقوق کو بنیادی طور پر تین پہلوؤں میں سمجھا جاسکتا ہے: تلاوت، فہم اور عمل۔ ان تینوں کا باہمی تعلق قرآن کے ساتھ ایک جامع اور بامقصد تعلق قائم کرتا ہے۔

پہلا حق: تلاوتِ قرآن

قرآنِ کریم کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے صحیح طریقے سے پڑھا جائے، اس کی تلاوت کا معمول قائم رکھا جائے اور اس کے الفاظ کی ادائیگی میں حتی المقدور درستگی اختیار کی جائے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا

’’اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔‘‘(سورۃ المزمل: 4)

ترتیل کا تقاضا ہے کہ قرآن کو جلد بازی کے بجائے اطمینان سے پڑھا جائے، حروف کے حقوق ادا کیے جائیں اور آیات کی تلاوت میں سنجیدگی اور توجہ ملحوظ رکھی جائے۔

قرآن پڑھنے میں دشواری محسوس کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے، درست قراءت سیکھنے کے لیے کسی اہل استاد سے رہنمائی لے اور اپنی کمزوری کو تلاوت ترک کرنے کا سبب نہ بنائے۔

دوسرا حق: فہمِ قرآن

قرآنِ کریم کا دوسرا حق اس کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ تلاوت کے ساتھ تدبر انسان کو قرآنی ہدایات کی حکمت اور ان کے عملی تقاضوں سے روشناس کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ

’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔‘‘(سورۃ ص: 29)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ تدبر بھی مطلوب ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مستند ترجمہ اور معتبر تفسیر کے ذریعے قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ جن آیات کے معانی میں دشواری ہو، ان کے بارے میں اہلِ علم سے دریافت کرے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ قرآن کے ہر لفظ کا مفہوم سمجھنا اور قرآن کی ہر آیت کے تمام علمی نکات تک پہنچنا ہر شخص کے لیے یکساں طور پر ممکن نہیں۔ تاہم بنیادی ہدایات کو سمجھنا، احکامِ شرعیہ سے واقف ہونا اور اپنی زندگی کے متعلق قرآنی رہنمائی حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے اہم دینی ضرورت ہے۔

تیسرا حق: عمل بالقرآن

قرآنِ کریم کا تیسرا اور نہایت اہم حق یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ کیا جائے۔ علم کا حقیقی فائدہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ انسان کے عمل اور کردار میں تبدیلی پیدا کرے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ

’’اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔‘‘(سورۃ الاعراف: 3)

قرآن کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرتی زندگی میں اس کی ہدایات کو رہنما بنائے۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، دوسروں کے حقوق ادا کرنا، ظلم سے بچنا، امانت میں خیانت نہ کرنا اور حلال و حرام کی پابندی کرنا اسی عملی تعلق کے اہم مظاہر ہیں۔

قرآن کا حقیقی فیض اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب اس کی روشنی انسان کے دل سے نکل کر اس کے عمل، معاملات اور معاشرت میں ظاہر ہونے لگے۔

آدابِ تلاوتِ قرآن

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لیے اس کی تلاوت کرتے وقت ادب، احترام، پاکیزگی اور خشوع و خضوع کا اہتمام کرنا چاہیے۔

تلاوت کے اہم آداب درج ذیل ہیں:

v   حتی المقدور وضو کرکے پاکیزہ جگہ پر بیٹھ کر تلاوت کی جائے۔

v   قبلہ رخ بیٹھنا مناسب اور مستحسن ہے، اگرچہ ہر حالت میں اسے لازم نہیں کہا جاسکتا۔

v   تلاوت سے پہلے دل کو غیر ضروری مشاغل سے ہٹانے اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی جائے۔

v   قرآنِ کریم کو درست تلفظ، ترتیل اور اطمینان کے ساتھ پڑھا جائے۔

v   آیاتِ رحمت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید اور آیاتِ عذاب پر اس کی پناہ طلب کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

v   تلاوت کے دوران غیر ضروری گفتگو اور ایسی مصروفیات سے بچا جائے جو توجہ کو منتشر کردیں۔

v   قرآنِ کریم کو احترام کے ساتھ رکھا جائے اور اسے ایسی جگہ نہ رکھا جائے جہاں بے ادبی کا اندیشہ ہو۔

v   تلاوت کے ساتھ اپنے اعمال کا جائزہ لیا جائے اور یہ ارادہ کیا جائے کہ قرآن کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اختیار کیا جائے۔

v   قرآنِ کریم کے احترام کا ایک اہم پہلو اس کی پاکیزگی اور تقدس کی رعایت ہے۔

v   مصحف کو بلا ضرورت بے احتیاطی سے چھونا، اس کے اوراق کو ضائع کرنا یا ایسی جگہ رکھنا جہاں اس کی بے حرمتی ہو، مناسب نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ

’’اسے پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا۔‘‘(سورۃ الواقعہ: 79)

اس آیت کے سیاق اور مراد کے بارے میں مفسرین نے تفصیلی بحث کی ہے۔ فقہی طور پر مصحف کو بلا وضو چھونے کے مسئلے میں جمہور فقہاء نے طہارت کی شرط بیان کی ہے؛ لہٰذا اس سلسلے میں معتبر فقہی رہنمائی کی پیروی کرنی چاہیے۔

قرآنِ کریم کی تلاوت میں آواز کو خوش الحانی سے آراستہ کرنا بھی مستحسن ہے، بشرطیکہ حروف کی ادائیگی، تجوید اور آیات کے الفاظ متاثر نہ ہوں۔ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کے کلام کی صحیح تلاوت اور اس کے ادب کی حفاظت ہے۔

 

قرآنِ کریم کی بے حرمتی سے اجتناب

قرآنِ کریم کے ادب کا تقاضا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہ کیا جائے جو اس کی عظمت کے خلاف ہو۔ مصحف کو پاکیزہ جگہ پر رکھنا، اس کے اوراق کی حفاظت کرنا اور خراب یا ناقابلِ تلاوت اوراق کو احترام کے ساتھ محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا ضروری احتیاطوں میں شامل ہے۔

اگر قرآنِ کریم کے اوراق اس قدر بوسیدہ ہوجائیں کہ ان کی تلاوت ممکن نہ رہے تو انہیں ایسے طریقے سے محفوظ یا دفن کیا جائے جس میں بے حرمتی کا اندیشہ نہ ہو۔ اس سلسلے میں اہلِ علم کی رہنمائی اور مقامی معتبر طریقے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

قرآنِ کریم کو بچوں کے نام نکالنے، بے بنیاد فال گیری یا ایسے غیر ثابت شدہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست دینی رویہ نہیں۔ قرآن ہدایت، نصیحت اور اصلاح کی کتاب ہے، اس لیے اس کے ساتھ تعلق اس کے اصل مقصد کے مطابق ہونا چاہیے۔

قرآن کا احترام صرف ظاہری آداب تک محدود نہیں۔ اس کی تعلیمات کے خلاف دانستہ عمل کرنا، اس کے احکام سے بے اعتنائی برتنا اور اس کے پیغام کو اپنی زندگی سے الگ کردینا بھی اس تعلق کو کمزور کرتا ہے۔ حقیقی ادب یہ ہے کہ مصحف کی ظاہری حرمت کے ساتھ اس کے پیغام اور احکام کا بھی احترام کیا جائے۔

قرآنِ کریم کی تعلیم اور معاشرتی ذمہ داری

تعلیمِ قرآن کے اثرات اس وقت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جب وہ فرد کی اصلاح سے آگے بڑھ کر پورے معاشرے کی بہتری کا ذریعہ بنے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں قرآن کی تعلیم عام ہو، علم کی قدر کی جائے، اخلاقی تربیت کو اہمیت دی جائے اور لوگوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے، وہ عدل، خیرخواہی اور باہمی احترام کی بنیاد پر ترقی کرسکتا ہے۔

اسلام علم کو زندگی سے جدا نہیں کرتا۔ طب، ریاضی، سائنس، تاریخ، معاشیات اور دیگر مفید علوم انسان کی ضروریات پوری کرنے اور معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان علوم کا حصول اگر جائز مقاصد، انسانی فلاح اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ہو تو وہ بھی معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔

امام غزالی ؒ نے ایسے علوم کو، جن کے بغیر معاشرے کی ضروریات پوری نہ ہوسکیں، فرضِ کفایہ کے ضمن میں بیان کیا ہے۔ اس اصول سے واضح ہوتا ہے کہ ایک صالح معاشرے کے لیے دینی رہنمائی کے ساتھ ان علوم و فنون کی بھی ضرورت ہے جو انسانی زندگی اور اجتماعی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ہوں۔

تاہم علم کی قدر و قیمت کا تعین صرف اس کی افادیت سے نہیں، بلکہ اس کے استعمال کے طریقے اور مقصد سے بھی ہوتا ہے۔ ایسا علم جو ظلم، دھوکے یا فساد کو فروغ دے، اپنے صحیح مقصد سے منحرف ہوجاتا ہے؛ جب کہ وہ علم جو انسانیت کی خدمت، عدل کے قیام اور مخلوق کی بھلائی میں استعمال ہو، معاشرے کے لیے رحمت بن سکتا ہے۔

تعلیمِ قرآن ہمیں یہی شعور دیتی ہے کہ علم کو اخلاق، ذمہ داری اور خیرخواہی کے ساتھ استعمال کیا جائے، تاکہ فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی تعمیر بھی ممکن ہوسکے۔

تعلیمِ قرآن مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا بنیادی ستون ہے۔ قرآنِ کریم کی تلاوت دل کو سکون، روح کو تازگی اور نامۂ اعمال کو نیکیوں سے آراستہ کرتی ہے۔ اس کی تعلیم انسان کو علم و معرفت عطا کرتی ہے، اس کے معانی میں تدبر فکر کو وسعت دیتا ہے اور اس کی ہدایات پر عمل زندگی کو پاکیزگی اور اعتدال بخشتا ہے۔

قرآنِ کریم کے ساتھ حقیقی تعلق یہ ہے کہ مسلمان اسے پڑھے، اس کے معانی کو سمجھنے کی کوشش کرے، اس کے احکام پر عمل کرے اور اس کے پیغام کو حکمت و خیرخواہی کے ساتھ دوسروں تک پہنچائے۔ قرآن کے حقوق صرف تلاوت تک محدود نہیں، بلکہ اس کی تعلیمات کو کردار، معاملات، اخلاق اور معاشرت میں نافذ کرنا بھی اس تعلق کا لازمی حصہ ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گھروں، اور تعلیمی اداروں میں قرآنِ کریم کی تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ نئی نسل کو صرف پڑھنا اور حفظ کرنا ہی نہ سکھایا جائے، بلکہ قرآن کی محبت، اس کے معانی کی سمجھ، اس کے ادب اور اس پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کی صحیح تلاوت، اس کے معانی کے فہم، اس کی تعلیمات پر عمل اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو قرآن کے نور سے منور فرمائے، ہماری زندگیوں کو اس کی ہدایت کے مطابق سنوار دے اور قیامت کے دن قرآنِ کریم کو ہمارے حق میں شفیع بنائے۔آمین یا رب العالمین۔

Post a Comment