کعبۃ اللہ — مرکزِ یقین، قبلۂ دل و جاں​

محمدداؤدالرحمن علی
کعبۃ اللہ! یہ محض ایک عمارت کا نام نہیں؛ یہ توحید کا نشان، ایمان کا مرکز، دلوں کا قبلہ اور امتِ مسلمہ کی وحدت کی علامت ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں، مختلف نسلوں، مختلف زبانوں اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جب اس مقدس گھر کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں تو ان کی تمام ظاہری شناختیں ایک عظیم روحانی نسبت میں سمٹ جاتی ہیں: اللہ کی بندگی۔
یہ مرکزِ یقین ہے، مقامِ رشد ہے، مسکنِ ہدایت ہے، درِ عزت و توقیر ہے اور جائے تطہیر و تقدیس ہے۔ اس کی عظمت کا اندازہ انسانی الفاظ سے نہیں کیا جاسکتا؛ اس کے مقام کی گواہی خود کلامِ الٰہی دیتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے مقامِ محترم کعبہ کو لوگوں کے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ: 97)
کعبۃ اللہ کی یہی مرکزیت اسے محض ایک مقدس مقام نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے امتِ مسلمہ کے دینی تشخص اور روحانی وحدت کا محور بنا دیتی ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں آباد مسلمان ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں، ایک ہی رب کے سامنے جھکتے ہیں اور ایک ہی مرکز سے اپنی روحانی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔

ایک گھر، کروڑوں دل​

دنیا کے نقشے پر ایک مقدس نقطہ ہے، مگر اس نقطے سے کروڑوں دلوں کی دھڑکنیں وابستہ ہیں۔ کوئی مشرق سے چلتا ہے، کوئی مغرب سے؛ کوئی شمال سے آتا ہے، کوئی جنوب سے؛ کسی کی زبان عربی ہے، کسی کی اردو، فارسی یا ترکی، کسی کی مادری زبان کچھ اور—مگر جب وہ حرم کی حدود میں قدم رکھتا ہے تو سب زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں اور دل کی ایک ہی زبان رہ جاتی ہے: لبیک اللّٰہم لبیک۔
یہ وہ گھر ہے جہاں پہنچنے کی آرزو بوڑھی نہیں ہوتی، جہاں حاضری کی تمنا کبھی پرانی نہیں پڑتی، جہاں ایک بار آنے والا بار بار آنے کی دعائیں مانگتا ہے اور جسے دیدارِ کعبہ نصیب ہو جائے، اس کے دل میں پھر اسی دیدار کی پیاس جاگ اٹھتی ہے۔
قرآنِ کریم فرماتا ہے:
’’اور ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنایا۔‘‘(سورۃ البقرہ: 125)
اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
’’اور جو اس میں داخل ہوا، مامون ہوگیا۔‘‘(سورۃ آل عمران: 97)
کیا یہ محض ایک شہر اور ایک عمارت کی بات ہے؟ نہیں! یہ اس امن کا اعلان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس حرم کے ساتھ وابستہ فرما دیا۔ یہ اس نسبت کا اعزاز ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام نسبتیں ہیچ ہیں۔

وہ گھر جسے ابراہیمؑ نے دعا کے ساتھ تعمیر کیا​

کعبۃ اللہ کی نسبت تاریخِ انسانی کی گہرائیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہؑ کی تعمیرِ کعبہ کا منظر جس انداز سے محفوظ کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
باپ اور بیٹا بیت اللہ کی دیواریں بلند کررہے ہیں، مگر ان کے لبوں پر اپنی عظیم خدمت کا فخر نہیں؛ بلکہ عاجزی اور قبولیت کی دعا ہے:
’’اے ہمارے رب! ہماری یہ خدمت قبول فرما، بے شک تو ہی سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ: 127)
یہ منظر ہمیں عبادت کا ایک بنیادی سبق دیتا ہے: عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، بندۂ مومن کے دل میں اپنی کوشش کا غرور نہیں بلکہ قبولیت کی فکر ہونی چاہیے۔
قرآنِ کریم اعلان کرتا ہے:
’’بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، جو بابرکت اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا مقام ہے۔‘‘(سورۃ آل عمران: 96)
یہی وجہ ہے کہ کعبۃ اللہ صرف ایک سمت نہیں؛ یہ مسلمانوں کے لیے ایک روحانی مرکز ہے۔ نماز میں چہرے کا رخ اسی طرف ہوتا ہے، حج میں اسی گھر کا طواف کیا جاتا ہے اور دل اسی کی حاضری کی تمنا میں دھڑکتا ہے۔

مکہ — جس کی مٹی بھی حرمت آشنا ہے​

مکہ مکرمہ! وہ شہر جس کی فضا میں وحی کی صدائیں گونجیں، جس کی وادی میں توحید کا پیغام بلند ہوا، جہاں رسولِ اکرم ﷺ نے دعوتِ حق کا آغاز فرمایا اور جس کے سینے میں بیت اللہ جیسا مقدس خزانہ محفوظ ہے۔
اس شہر کی حرمت ایسی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اس کے خصوصی احکام بیان فرمائے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن ہی حرمت عطا فرمائی اور اس کی حرمت قیامت تک باقی رہے گی۔
اس حرم میں شکار کے بھی احکام ہیں، نباتات اور درختوں کے بھی، گری پڑی چیز کے بھی اور جنگ و جدال کے بھی۔ حتیٰ کہ اس مقدس سرزمین کے کانٹے تک کو کاٹنے سے منع فرمایا گیا۔
حضرت عباسؓ کی درخواست پر اہلِ مکہ کی ضرورت کے پیشِ نظر اذخر گھاس کے بارے میں خصوصی اجازت عطا فرمائی گئی۔(صحیح بخاری: 1834، صحیح مسلم: 1353)
یہ احکام ہمیں بتاتے ہیں کہ حرم کی حرمت صرف ایک تصور نہیں؛ اسلام نے اسے زندگی کے عملی آداب میں ڈھال دیا ہے۔

کعبۃ اللہ: امن کا مرکز​

اللہ تعالیٰ نے اس مقدس گھر کو امن اور ثواب کی جگہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
’’اور ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے ثواب اور امن کی جگہ بنایا۔‘‘(سورۃ البقرہ: 125)
اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
’’اور جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا۔‘‘(سورۃ آل عمران: 97)
یہ وہ گھر ہے جس کی زیارت کی آرزو دل میں پیدا ہو جائے تو دنیا کی کوئی مصروفیت اس آرزو کو پوری طرح خاموش نہیں کرسکتی۔ جسے ایک مرتبہ حاضری نصیب ہوجائے، اس کے دل میں دوبارہ آنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ بیت اللہ کا دیدار بسا اوقات ایک ایسی روحانی کیفیت عطا کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
کعبۃ اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر انسان کو اپنی بے بسی اور اپنے رب کی کبریائی کا احساس ہوتا ہے۔ وہاں پہنچ کر دنیاوی تفاخر کی دیواریں گرنے لگتی ہیں اور بندہ اپنی اصل حقیقت—یعنی عبد ہونے کی حقیقت—سے آشنا ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ کی حرمت اسلام کے بنیادی شعائر میں سے ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اس شہر کی حرمت کو واضح فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ہی حرمت عطا فرمادی تھی اور یہ حرمت قیامت تک برقرار رہے گی۔
اسی لیے حرمِ مکی کے لیے بعض خصوصی احکام مقرر کیے گئے۔ وہاں شکار کے بارے میں ممانعت ہے، درختوں اور نباتات کو کاٹنے کے بارے میں خصوصی احکام ہیں، گری پڑی چیز کے بارے میں بھی ضابطہ مقرر ہے اور جنگ و جدال سے بھی ممانعت کی گئی ہے۔
حضرت عباسؓ کی درخواست پر اہلِ مکہ کی ضروریات کے پیشِ نظر اذخر گھاس کے کاٹنے کی اجازت عطا فرمائی گئی۔(صحیح بخاری: 1834، صحیح مسلم: 1353)
یہ احکام اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ حرم کی حرمت محض ایک جذباتی تصور نہیں، بلکہ شریعت نے اسے عملی زندگی کے آداب میں ڈھالا ہے۔

حرم میں کج روی کی وعید​

حرمِ مکی کا تقدس اس قدر عظیم ہے کہ قرآنِ کریم نے وہاں ظلم اور کج روی کے ارادے پر بھی سخت وعید سنائی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور جو شخص اس میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘(سورۃ الحج: 25)
یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ حرم کا ادب صرف ظاہری اعمال تک محدود نہیں؛ اس مقام کی حرمت انسان کے ارادوں اور رویوں سے بھی وابستہ ہے۔
حرم میں داخل ہونے والا شخص گویا اپنے رب کے ایک خصوصی حریم میں قدم رکھتا ہے۔ اس لیے وہاں قدم بھی ادب سے اٹھنا چاہیے اور دل بھی ادب سے جھکنا چاہیے۔

جب ہاتھیوں کا لشکر آیا​

تاریخ نے ایک منظر دیکھا تھا: ایک طاقتور لشکر، ہاتھیوں کی قطاریں، ایک عظیم الشان قوت اور سامنے ایک بظاہر بے وسیلہ گھر!
ابرہہ نے سمجھا کہ طاقت کے بل پر بیت اللہ کو مٹا دیا جائے گا۔ مگر وہ یہ بھول گیا کہ جس گھر کی نسبت زمین سے نہیں، ربِ زمین سے ہو، اس کی حفاظت کے لیے دنیاوی لشکروں کی محتاجی نہیں۔
قرآنِ کریم نے اس واقعے کو سورۃ الفیل میں محفوظ کردیا:
’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو ناکام نہیں کر دیا تھا؟ اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکر پھینک رہے تھے، پھر انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کر دیا۔‘‘(سورۃ الفیل: 1-5)
یہ واقعہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، قدرتِ الٰہی کی ایک روشن نشانی ہے۔ انسان اپنی قوت پر نازاں ہو سکتا ہے، مگر اللہ کے فیصلے کے سامنے ہر قوت بے بس ہے۔

وہ حرم جہاں فتنۂ دجال بھی داخل نہ ہوگا​

حرمین شریفین کی خصوصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے خصوصی تحفظ کا ذکر ملتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال ہر شہر میں جائے گا، مگر مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا؛ ان دونوں شہروں کے راستوں پر فرشتے نگرانی کریں گے۔(صحیح البخاری: 1881)
یہ دونوں شہر امتِ مسلمہ کے لیے محض تاریخی مقامات نہیں؛ یہ ایمان، محبت، عقیدت اور روحانی نسبت کے دو عظیم مراکز ہیں۔

حرمین شریفین — امت کے دل کی دھڑکن​

حرمین شریفین کی محبت مسلمان کے دل میں کسی ایک خطے، قوم یا نسل کی میراث نہیں۔ یہ پوری امت کی مشترکہ محبت ہے۔ دنیا کے کروڑوں مسلمان اپنی نمازوں میں بیت اللہ کی طرف رخ کرتے ہیں، اپنے دلوں میں مدینہ منورہ کی محبت رکھتے ہیں اور زندگی میں کم از کم ایک بار ان مقدس مقامات کی حاضری کی تمنا اپنے سینے میں لیے پھرتے ہیں۔
کعبۃ اللہ وہ مرکز ہے جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی رب کے سامنے جھکتے ہیں۔ یہاں بادشاہ اور فقیر کا امتیاز مٹ جاتا ہے، امیر و غریب ایک ہی لباس میں دکھائی دیتے ہیں، اور انسان اپنی تمام دنیاوی شناختوں سے اوپر اٹھ کر صرف عبدُ اللہ بن جاتا ہے۔
یہی تو اس گھر کا سب سے بڑا پیغام ہے: وحدت۔
یہی وہ مقام ہے جو منتشر دلوں کو ایک مرکز عطا کرتا ہے، مختلف سمتوں میں بٹے ہوئے انسانوں کو ایک قبلہ دیتا ہے اور مختلف قوموں کو ایک امت ہونے کا احساس بخشتا ہے۔

حرمین شریفین کا تحفظ: محبت سے ذمہ داری تک​

حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی ہر مسلمان کے لیے باعثِ عقیدت ہے۔ مگر اس عقیدت کا تقاضا صرف جذباتی اظہار نہیں؛ اس کے ساتھ حکمت، ذمہ داری، امن، نظم و ضبط اور باہمی احترام بھی ضروری ہے۔
حرمین شریفین کا حقیقی احترام یہ ہے کہ مسلمان ان مقدس مقامات کے تقدس کو اپنے قول و عمل میں ملحوظ رکھے، وہاں کے نظم و امن کا خیال رکھے، دوسرے زائرین کے حقوق کا احترام کرے اور ہر ایسے عمل سے بچے جو حرم کی حرمت یا کسی دوسرے مسلمان کے حق کو مجروح کرے۔
آج امتِ مسلمہ کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ محض جذباتی نعروں سے بڑھ کر اخوت، باہمی احترام اور مثبت اتحاد ہے۔ کعبۃ اللہ دنیا کے مسلمانوں کو روزانہ یہ سبق دیتا ہے کہ مختلف سمتوں سے آنے والے انسان ایک ہی مرکز کی طرف رخ کرکے ایک صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔
اگر کعبۃ اللہ کے گرد طواف کرنے والا مسلمان یہ سبق اپنی زندگی میں بھی لے آئے کہ اختلاف کے باوجود قبلہ ایک ہے، رب ایک ہے اور امت کا بنیادی رشتہ ایک ہے، تو حرمین شریفین کی نسبت محض ایک روحانی تجربہ نہیں رہے گی بلکہ معاشرتی اور اخلاقی زندگی کی تعمیر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
حرمین شریفین کی محبت ہمیں جوڑنے والی محبت ہے۔ یہ محبت دلوں میں ادب پیدا کرتی ہے، زبان کو پاکیزگی عطا کرتی ہے اور انسان کو اپنے رب کے سامنے جھکنا سکھاتی ہے۔

کعبۃ اللہ ہمیں کیا پیغام دیتا ہے؟​

کعبۃ اللہ کے گرد طواف کرتے ہوئے لاکھوں انسان ایک ہی مرکز کے گرد گردش کرتے ہیں۔ شاید اس منظر میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے: مرکز ایک ہو تو سمتیں مختلف ہونے کے باوجود اجتماع ممکن ہے۔
یہی کعبۃ اللہ کا پیغام ہے۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل عظمت قوم، نسل، زبان یا مال میں نہیں؛ اصل عظمت اللہ کی بندگی میں ہے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان جتنا بلند ہو، اسے اپنے رب کے سامنے اتنا ہی جھکنا چاہیے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ہر نسبت عارضی ہے، مگر اللہ سے نسبت دائمی ہے۔
اور یہ بھی کہ جس دل میں توحید کا چراغ روشن ہو جائے، اسے دنیا کی ظاہری تاریکیاں ہمیشہ کے لیے مغلوب نہیں کرسکتیں۔

حفاظتِ حرمین شریفین​

حرمین شریفین کی حفاظت ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ وہ مقدس شہر ہیں جن سے امتِ مسلمہ کی روحانی زندگی وابستہ ہے۔ کعبۃ اللہ ہمارا قبلہ ہے، مسجدِ نبوی ﷺ ہماری عقیدت کا مرکز ہے، اور ان مقدس مقامات کی حرمت ہمارے ایمان و احساس کا حصہ ہے۔​

حرمین شریفین کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں؛ یہ ادب، اطاعت، اخوت، نظم اور ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ جو دل بیت اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ رحمت، حسنِ اخلاق اور خیر خواہی کا معاملہ بھی کرے۔ یہی حرمین کی روحانی نسبت کا حقیقی تقاضا ہے۔
ہم دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوں، ہمارے دل حرمین شریفین کے ساتھ ہیں۔ ہم ان کے امن کے لیے دعا گو ہیں، ان کی حرمت کے پاسبان جذبات اپنے سینوں میں رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ مقدس مقامات ہمیشہ امن، عبادت اور روحانیت کا گہوارہ بنے رہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ بیت اللہ کے خلاف جس جس نے جسارت کی، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اس کے ارادوں کو ناکام فرمایا۔ اصحابِ فیل کا واقعہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ بیت اللہ کا حقیقی محافظ خود ربِ کعبہ ہے۔
موجودہ دور کے اندر حفاظت حرمین شریفین کے لیے امت مسلمہ اتحاد کی طرف قدم بڑھا رہی ہے،عالم کفر کو یہ بات تسلیم نہیں کہ مسلمان آپس میں اتحاد اور اتفاق سے رہیں،جب بات حرمین کی آجائے تو امت مسلمہ ایک سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے ، عالم کفر نے مختلف پینترے اپنائے لیکن ناکام ہوا ،جب اسے معلوم ہوا کہ اب مسلمانوں کا اتحاد مزید مضبوط ہو سکتا ہے تو اس نے حرمین شریفین پر میلی آنکھ سے دیکھنا شروع کردیا اور اپنے ناپاک عزائم دنیا کے سامنے لانے شروع کردیے۔ عالم کفر یہ نہیں جانتا ہے کہ ارض حرمین کی حفاظت اوراتحاد مسلم کے لیے ہماری تاریخ کیا ہے ،عالم کفر نے اگر اس نے ایسا کچھ کرنے کی جسارت کی تو وہ یہ نہیں جانتے کہ مسلمان بیت اللہ اور نبی اکرمﷺ کی حرمت کی ناموس کی حفاطت کے لیے قیصر وکسریٰ کو پاش پاش کر سکتے ہیں، یہ سمندروں کا سینہ چیر سکتے ہیں، یہ سومنات کو کرچیوں میں بدل کر پاؤں کے نیچے روند سکتے ہیں۔ امت مسلمہ بھوک پیاس برداشت کرسکتی ہے پیٹ پر پتھر باندھ سکتی ہے، تپتے ہوئے صحراؤں کی ریت پر لیٹ سکتی ہے، سولی چڑھ سکتی ہے، مگر اپنے نبی ﷺ اور بیت اللہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو برداشت نہیں کر سکتی۔ تحفظ حرمین کےلیے تمام مسلمان متحد ہیں۔

Post a Comment